پاکستانی خواتین جنگلات اگانے پر فخرمحسوس کرتی ہیں

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Monday, 25 January 2016 09:05 GMT

Robina Gul shows seeds from different plant species she has collected in the forest around her village in Pakistan's Khyber Pakhtunkhwa province, as her son looks on. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information
Women earn money from provincial forest protection scheme to grow tree seedlings in home nurseries


ہری پور، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔۔۔ روبینہ گل جو کچھ عرصہ قبل تک شادی بیاہ اور مذہبی تہواروں کیلئے کپڑے سی کر اپنا گزارہ کرتی تھی اب اپنے گاؤں کی دوسری خواتین کو بھی پودوں کی نرسریاں لگانے کی طرف مائل کررہی ہے جس سے وہ ماہانہ اچھے پیسے کما سکتی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں نجف پورمیں دو کمروں کے گھر کے ایک چھوٹے سے صحن میں گل تیرہ مختلف اقسام کے پچیس ہزار پودے اگا رہی ہے اور وہ کہتی ہے کہ اس سے اسکو بہت لطف ملتا ہے کیونکہ ان پودوں نے اسکی پوری زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اسکا کہنا ہے کہ پودے اسکے لئے ایک مشغلہ ہیں اور ذریعہ معاش بھی۔

صوبائی محکمہ جنگلات کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت اس نے گزشتہ سال مارچ میںیہ نرسری لگائی تھی، حکومت پچیس ہزار پودوں کی ایک نرسری ایک سال کے لئے اگانے کے لئے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے دیتی ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ پلاسٹک کے تھیلے، مٹی ، کھاد اور پودوں کی دیکھ بھال کی تربیت بھی دیتے ہیں۔

گل کا کہنا ہے کہ پودوں کی دیکھ بھال کرنے سے وہ بارہ ہزار سے زائد ماہوار کما رہی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اس نے پودے اگانے کی مہارت بھی حاصل کرلی ہے اور اب اگر حکومت کا یہ منصوبہ ختم بھی ہو جائے تو وہ اپنی نرسری خود چلا کر بھی کافی پیسے کما سکتی ہے۔
مئی دوہزار اٹھارہ تک صوبائی حکومت اس منصوبہ پر جس کو وہ بلین ٹری سونامی کا نام دیتی ہے اکیس ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور مقصد ایک ارب درخت اگانا ہے۔حکومت نے اس منصوبے کو ایک بزنس ماڈل میں بدل دیا ہے جس کے تحت وہ نرسریاں قائم کرنے کے لئے بیواؤں ، غریب خواتین اور نوجوانوں کو مراعات دیتے ہیں، جس سے حکومت کو پودے لگانے کے لئے مل جاتے ہیں اور لوگوں کو باعزت روزگار۔اسکے ساتھ ساتھ لکڑ کی نقل و حمل پر مکمل پابندی اور مقامی لوگوں کی بطور جنگلات محافظ بھرتی سے جنگلات کی کٹائی بھی تقریباًمکمل طورپر ختم ہو گئی ہے۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت کل رقبہ کے صرف پانچ فیصد رقبہ پر جنگلات ہیں جبکہ موجودہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی شرح تقریباً ستائیس ہزار ہیکٹر سالانہ ہے۔

خیبر پختونخواہ میں جو لوگ پچیس ہزار پودوں کی نرسریاں لگانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کا انتخاب دیہی ترقیاتی کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مشیر اور آئی یو سی این کے گلوبل وائس پریزیڈنٹ ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ان لوگوں سے فی پودہ چھ روپے واپس خریدنے کی ذمہ داری لیتی ہے۔

صوبے میں اس وقت ایک ہزارسات سو سنتالیس پرائیویٹ جبکہ دو سو اسی سرکاری نرسریاں کام کر رہی ہیں جن میں مجموعی طورپر دو سو دس ملین پودے لگے ہوئے ہیں، اور یہ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں شجرکاری مہم کے دوران لگائے جائیں گے۔

اسلم کا کہنا ہے کہ حکومت اب تک صوبے میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ پودے لگا چکی ہے جن پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ آیاہے اور ان میں سے اسی فیصد پودے جانبر ہوئے ہیں۔

محکمہ جنگلا ت کی ایک کمیونٹی ڈویلپمنٹ افسرزوبیہ گل صوبہ کے دور دراز علاقوں کی خواتین اور پڑھی لکھی لڑکیوں کو نئی نرسریاں لگانے کی طرف راغب کرتی ہے ،اسکا کہنا ہے کہ صوبہ کے دیہی علاقوں میں اکثر خاندان بنیاد پرست ہیں اور ان سے ملنے اور نرسری منصوبہ سے متعلق معلومات دینے کے لئے خواتین افسر ہی ان کے گھروں میں جا کر ملتی ہیں۔

خواتین کو اس منصوبے میں شامل کرنے پر مقامی مرد حضرات بھی خوش ہیں کیونکہ نرسری لگانے اور اسکی دیکھ بھال کرنے کے لئے خواتین کو اپنے گھروں سے باہر کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، پانچ سو سے زائد خواتین براہ راست اس منصوبے کا حصہ ہیں اور اپنے گھروں کے اردگرد جنگلات کی دیکھ بھال کرنے اور نرسریا ں لگانے کے کام پر وہ بہت فخر محسوس کرتی ہیں۔ ان خواتین سے متاثر ہو کر ، صوبہ بھر سے تقریباً ایک سو پچاس مزید خواتین نئی نرسریاں لگانے کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ افسروں کے ساتھ رجسٹر ہوچکی ہیں ۔

پشاور یونیورسٹی کی ایک حالیہ گریجویٹ فروہ عمرین کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے اس بلین ٹری سونامی منصوبہ کا حصہ بننے جا رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس سے نہ صرف پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے پوری دنیا کے لئے ایک اہم منصوبہ ہے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.