پاکستان کی کاٹن انڈسٹری کپاس کی درآمد پراس سال چار ارب ڈالر خرچ کرے گی

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Thursday, 12 May 2016 13:42 GMT

Employees works in a textile factory in Faisalabad, Pakistan. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information
Drought linked to climate change is drying up Pakistan's cotton textile industry and costing the country billions

اسلام آباد (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔۔ ۔ پاکستان میں خراب موسم اور خشک سالی سے کپاس کی فصل خراب ہونے کے بعد، حکومت اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مدد کے لئے اس سال دوسرے ممالک سے کپاس درآمد کرنے پر چار ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ خراب موسم کی وجہ سے فصل کی مقدار اور معیار دونوں متاثرہوئے ہیں،جسکی وجہ سے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کے چند پرانے ٹیکسٹائل تاجروں میں سے ایک فضل گروپ کے آپریشن مینیجر محمود اسلم کا کہنا ہے ، " ہم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے بھارت اور دوسرے ممالک سے کپاس درآمد کر رہے ہیں اور گزشتہ چھ ماہ میں اس میں بیس فیصد اضافہ ہواہے"۔ انکا کہنا ہے کہ کپاس کی درآمد کی وجہ سے انکی کمپنی کے اخراجات میں تیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور اس سے انکے سالانہ منافع میں بھی کمی ہو گی۔

انکا یہ بھی کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے مقامی روئی کامعیار کافی گر گیا ہے ،جسکی وجہ سے انکی پیداواری لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ان سارے مسائل اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گزشتہ دوسالوں میں انکی تیار اشیاء کی برآمدات میں ستر فیصدکمی ہوئی ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ" تیس دن کی مقررہ مدت میں ہم اپنے آرڈر تیار نہیں کر سکتے، جسکی وجہ سے ہمارے بہت سارے گاہک بھارت، بنگلہ دیش اور چائنہ کی طرف چلے گئے ہیں۔" 

تاہم، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انکی انڈسٹری کی مدد کے لئے سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے۔

پاکستان کی فیڈرل کمیٹی برائے کاٹن کا کہنا ہے کہ اس سال خراب موسم، غیر معیاری بیج اور خشک سالی کی وجہ سے ملک میں کپاس کی پیداوار متوقع ساڑھے پندرہ ملین گانٹھوں سے کم ہو کر تقریبا گیارہ ملین گانٹھیں رہی ہیں۔ پاکستان کا صوبہ پنجاب ملک کی تقریبا پچاسی فیصدکپاس پیدا کرتا ہے جس کے بعد سندھ اور دوسرے صوبے آتے ہیں۔

پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے نائب صدراور کاٹن کمشنر خالد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس سال چار ارب ڈالر کی کپاس درآمد کی جائے گی۔

انکا کہنا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر اس سال کپاس کی فصل کم ہوئی ہے جس میں گزشتہ سال قیمتوں کا کم ہونا، خراب موسم اور ماحولیاتی تبدیلی ایسے عوامل کارفرما ہیں۔

کپاس کی پیداوار میں پاکستان دنیا کو چوتھا بڑا ملک ہے اور سپننگ میں ایشیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ ملک کی کاٹن انڈسٹری کل افرادی قوت کے تقریبا چالیس فیصد کو روزگار بھی فراہم کرتی ہے۔

کاٹن اور اس سے بننے والی اشیاء کی برآمد سے پاکستان ہر سال بارہ بلین ڈالر کماتا ہے۔

خراب موسم اور خشک سالی ایسے مسائل سے نمٹنے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں نے پنتالیس نئے بیج کی اقسام تیار کرلی ہیں جو نہ صرف پیداوار بڑھانے بلکہ پانی کے کم استعمال میں بھی مدد دیں گی۔

کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹر خالد محمود کا کہنا ہے کہاانہوں نے پنجاب اور سندھ کے بائیس مختلف مقامات پر ان بیجوں کو تجرباتی بنیادوں پر لگایا ہے، جس سے ا نکو کافی اچھے نتائج مل رہے ہیں۔ نئے بیجوں کی فی ایکڑ پیداوار چالیس من ہے جو کہ مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب بیجوں سے تقریبا ایک تہائی زیادہ ہے، اور یہ تیس فیصد پانی بھی کم استعمال کرتے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ نئے بیجوں کے استعمال سے کپاس کی پیداوار تقریبا بیس فیصد بڑھے گی اوراسکی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بھی بچانے میں مدد ملے گی۔

تاہم اسلم کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اور کسانوں کو ان نئے بیجوں سے اس سال کوئی فائدہ نہیں ہونے لگا اور نہ ہی اس سال اچھی معیاری کپاس ہونے کاکوئی امکا ن ہے، انکا کہنا ہے کہ انہیں تو ابھی مسئلہ کا سامنا ہے جبکہ حکومت کی تمام حکمت عملیاں دوہزار بیس اور اس سے آگے کی لگتی ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.